Hate material cases in Punjab from January to July 2021


By Khalid Khattak

As many as 249 cases were registered while 304 accused were arrested vis-à-vis cases pertaining to hate material in Punjab province during the first seven months of this year.

This has been revealed in Punjab Police’s data uploaded on its official website. As per data, Rawalpindi region stands out for maximum number of accused arrested i.e., 85 while in terms of maximum number of cases registered Gujranwala region ranks the highest with 38 arrests.

It is pertinent to mention here that Punjab Punjab operates under 10 administrative regions in the province which are Lahore, Sheikhupura, Gujranwala, Rawalpindi, Sargodha, Faisalabad, Multan, Sahiwal, D.G. Khan and Bahawalpur.

Want to dig more?

While journalists can use these numbers in their news reports pertaining to hate crimes in the province or in the country, they can surely try to dig out more as to why one particular region stands out. Some pertinent points and questions they can ponder could be……

  • Breakup of data in terms of locality within a certain region.
  • Age bracket of those against whom the cases have been registered and those arrested and their background in terms of religion/sect?
  • The higher number of cases and arrests in a particular region are because of efficient policing?
  • Or is there some kind of tendency towards this particular crime in those regions?
  • Or is there the presence of extremist elements?

You can share your thoughts and more questions in the comments sections below.

These and many more questions like these can present a better picture. And yes, you can always use Right to Information (RTI) laws to seek more information/data from the government departments to build on data you already have.

You can download dataset here.

اس سال کے پہلے سات ماہ کے دوران صوبہ پنجاب میں نفرت انگیز مواد سے متعلق 249 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 304 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ اس بات کا انکشاف پنجاب پولیس کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردہ ڈیٹا میں ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، راولپنڈی ریجن میں سب سے زیادہ ملزمان یعنی 85 ملزمان گرفتارکیے گئے ہیں جبکہ زیادہ سے زیادہ مقدمات38گوجرانوالہ ریجن میں درج کیے گئے ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صوبہ پنجاب میں پولیس کا نظام 10 انتظامی علاقوں کے تحت کام کرتا ہے جو لاہور، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان، ساہیوال، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپورپر مشتمل ہے۔

اگرچہ صحافی ان نمبرز یعنی اعداد و شمار کو صوبے یا ملک میں نفرت انگیز جرائم سے متعلق اپنی خبروں میں استعمال کر سکتے ہیں، لیکن وہ یقینا زیادہ جاننے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ ایک خاص علاقہ میں ایسے جرائم کیوں زیادہ ہوئے ہیں۔کچھ متعلقہ نکات اور سوالات جن پر وہ غور کر سکتے ہیں وہ یہ ہیں ……

  • ایک مخصو ص ر یجن کے علاقوں کے لحاظ سے ڈیٹا۔
  • جن لوگوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں اور جن کو گرفتار کیا گیا ہے اور مذہب/فرقے کے لحاظ سے ان کا پس منظر
  • کسی خاص علاقے میں مقدمات اور گرفتاریوں کی زیادہ تعداد موثر پولیسنگ کی وجہ سے ہے؟
  • یا ان علاقوں میں اس خاص جرم کی طرف کسی قسم کا رجحان ہے؟
  • یا وہاں شدت پسند عناصر کی موجودگی ہے؟

یہ اور ان جیسے بہت سے سوالات ایک بہتر تصویر پیش کر سکتے ہیں۔ اور ہاں، آپ ہمیشہ معلومات کے حق یعنی (RTI) کے قوانین کو استعمال کر کے سرکاری محکموں سے مزید معلومات/ڈیٹا حاصل کر سکتے ہیں تاکہ آپ ان اعداد و شمار کو مزید بہتر کر سکیں۔

آپ تبصرے کے سیکشن میں اپنے خیالات اور مزید سوالات شیئر کر سکتے ہیں۔